زخم تازے ہیں
مرہم بھی نہیں
غیروں سے کہا
اپنوں سے نہیں
کتنے ہی گلے
چاہیں کر لیں ابھی
رو لیے ہیں ہم
کیا کافی یہ نہیں
زخم تازے ہیں
صبر بھی نہیں
تیری باتوں میں
اثر بھی نہیں
ہن تیری یاداں، تیری یاداں
مینوں بھول گئی، بھول گئیاں
ہن تیری یاداں، تیری یاداں
مینوں بھول گئی، بھول گئیاں
کتنے ہی گلے (کتنے ہی گلے)
چاہیں کر لیں ابھی (چاہیں کر لیں ابھی)
رو لیے ہیں ہم (رو لیے ہیں ہم)
کیا کافی یہ نہیں (کیا کافی یہ نہیں)
دس کیہڑی یاداں، کیہڑی یاداں
تینوں چبھدی، چبھدیاں
دس کیہڑی یاداں، کیہڑیاں یاداں
تینوں چبھدی، چبھدیاں
کیا وہ تیری یاد ہے (تیری یاد ہے)
جس نے ابھی بھی مجھے جگایا ہوا؟
کیا وہ تیری یاد ہے (تیری یاد ہے)
جس کو میں نے سہارا بنایا ہوا؟
کیا میں تجھے یاد ہوں (میں تجھے یاد ہوں)
یا سبق سمجھ کے بھلایا ہوا؟
کیا ہی ملاقات ہو (کیا ملاقات ہو)
تو نے نظروں کو اپنی جھکایا ہوا
ہو بہاروں سے لے کے خوشبوئیں
جیسے پھر ایک عطر بنا کے لگایا ہوا ہو
اور چاندنی رات سے چاند چرا کے
ماتھے پہ اپنے سجایا ہوا ہو
تو نظریں مل جائیں گی چاند پہ ہی
انجان ہے تیری محفل میرے لیے
پر یہ سارے تو مجھے جانتے ہی
میرے نام سے بھی، میرے کام سے بھی (aye)
جائیں قربان ہم سو دفعہ جاناں
حساب تو کبھی کیا ہی نہیں
میرا خدا گواہ اس نے میرے گناہوں کا
اب تک حساب لیا ہی نہیں
تحفے تحائف دیتے یہ بظاہر
پر دل تو کسی نے دیا ہی نہیں (نہیں، نہیں)
میری تیرے بغیر جو زندگی گزری
وہ کاٹی ہے اسے جیا تو نہیں (نہیں، نہیں، نہیں)
کیا ہی نہیں میں نے تیرا نہ ہونا قبول (aye)
کتنے ہی گلے اور کتنے ہی شکوے ہم ہوں گے اور کتنے مجبور (aye)
میں نے آئینے صاف کیے جانِ من
جب کہ چہرے پہ تھی میری دھول (aye)
اور یہ دونوں ہاتھ خالی آج بھی
مجھے کچھ ہوا نہ حاصل-حصول (aye)
کتنے ہی گلے (کتنے ہی گلے)
چاہیں کر لیں ابھی (چاہیں کر لیں ابھی)
رو لیے ہیں ہم (رو لیے ہیں ہم)
کیا کافی یہ نہیں (کیا کافی یہ نہیں)
ہن تیری یاداں، تیری یاداں
مینوں بھول گئی، بھول گئیاں
دس کیہڑی یاداں، کیہڑیاں یاداں
تینوں چبھدی، چبھدیاں
Paroles à titre informatif uniquement.